Showing posts with label WOMEN SECTION. Show all posts
Showing posts with label WOMEN SECTION. Show all posts
Thursday, October 4, 2012
Monday, September 10, 2012
Friday, September 7, 2012
Sunday, September 2, 2012
Friday, August 31, 2012
Hanfi Aurton Ki Mudallal Namaz By Shaykh Abdur Rauf Sakharvi
Khawateen Ke Fiqhi Masail By Shaykh Mufti Muhammad Usman Arkani
A VERY GOOD COLLECTION OF DIFFERENT FIQHI MASA’IL REGARDING WOMEN, MARRIED AND UNMARRIED BOTH.
By Shaykh Mufti Muhammad Usman Arkani
Siyar -us- Sahabiyat Ma Uswa -e- Sahabiyat [r.a] By Shaykh Saeed Ansari Nadvi (r.a) & Shaykh Abdus Salam Nadvi (r.a)
(24.7 M)
THIS IS A BRIEF COLLECTION OF THE SEERAH OF WOMEN COMPANIONS i.e. SAHABIYAT OF RASOOLULLAH (S.A.W). WOMEN SACRIFICED EQUALLY AS MEN IN THEIR CAPACITY AND EXCELLED & COMPETED IN EVERY FIELD OF LIFE FOR THE SAKE OF DEEN, AS MEN OF THAT TIME DID. THIS CULTURE CONTINUED THROUGH OUT THE MUSLIM HISTORY.
A 50 VOLUME WORK IS ALSO CARRIED OUT By SHEIKH AKRAM NADVI.
By Shaykh Saeed Ansari Nadvi (r.a) & Shaykh Abdus Salam Nadvi (r.a)
Sharai Parda ki Haqeeqat (شرعی پردے کی حقیقت)
پردہ کا موضوع انتہائی اہم موضوع ہے اور اس سلسلہ میں کوتاہیاں بھی بہت زیادہ کی جاتی ہےں۔ عوام الناس تو درکنار دیندار اور اہل علم گھرانوں میں بھی اس معاملہ میں شدید تساہل اور غفلت برتی جاتی ہے ، اسلیے ضرورت اس امر کی ہے کہ احساس موضوع اجاگر کر کے مسلمانوں کو شرعی پردہ اور اس کے احکام کے بارے میں باخبر کر دیا جائے۔ مولف رسالہ نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور بہت سی مفید باتیں اس کتابچہ میں نقل فرمائی ہیں، امید ہے کہ اس سے قارئین کو دینی فائدہ پہنچے گا اور اس اہم مسئلہ پر عمل کرنے میں سہولت اور آسانی پیدا ہوگی۔ اﷲ تعالیٰ اس کتابچہ کو نافع اور مقبول بنائے اور مولف محترم کے لیے دارین کا ذخیرہ بنائے۔آمین
Sharai Parda Kis se? (شرعی پردہ کس سے؟)
پردہ اپنی مقررہ حدود کے ساتھ ایک شرعی حکم اور دینی ہدایت ہے جس کی بنیادیں کتاب و سنت ان کی فقہی تشریحات اور تعامل سلف میں قاءم ہیں اور وہ ان ہی بنیادو ں پر ہر دور میں بلا انقطاع امت مرحومہ کا معمول رہتا آرہا ہے۔ وہ کوءی فرضی یا اختراعی چیز نہیںجسے کسی فرد یا سوساءٹی نے ہنگامی مصالح کے تحت تجیز کر لیا ہو اور اس کے رواج پذیر ہوجانے سے مسلمانوں کے ماحول میں خواہ مخواہ شرعی حیثیت دیدی گءی ہو۔مگر ایک عرصہ سے یہ شرعی حکم افراط و تفریط کا شکار ہو گیا ہے جس سے عوام میں اسکی شرعی حیثیت اور بنیادی حقیقت مشتبہ ہو گءی ہے اور وہ مختلف شکوک و شبہات اور سوالات کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ زیر نظر رسالہ میں مولف نے قرآنی احکام کی روشنی میں مدلل اور سیر حاصل گفتگو کی ہے اور پردہ کس سے کرنا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالہ کو مولف کے لیے توشہ آخرت اور عوام الناس کیلیے ذریعہ ہدایت بناءے ۔آمین
Sharai Parda (شرعی پردہ)
پردہ اپنی مقررہ حدود کے ساتھ ایک شرعی حکم اور دینی ہدایت ہے جس کی بنیادیں کتاب و سنت ان کی فقہی تشریحات اور تعامل سلف میں قاءم ہیں اور وہ ان ہی بنیادو ں پر ہر دور میں بلا انقطاع امت مرحومہ کا معمول رہتا آرہا ہے۔ وہ کوءی فرضی یا اختراعی چیز نہیںجسے کسی فرد یا سوساءٹی نے ہنگامی مصالح کے تحت تجیز کر لیا ہو اور اس کے رواج پذیر ہوجانے سے مسلمانوں کے ماحول میں خواہ مخواہ شرعی حیثیت دیدی گءی ہو۔مگر ایک عرصہ سے یہ شرعی حکم افراط و تفریط کا شکار ہو گیا ہے جس سے عوام میں اسکی شرعی حیثیت اور بنیادی حقیقت مشتبہ ہو گءی ہے اور وہ مختلف شکوک و شبہات اور سوالات کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ زیر نظر رسالہ میں مولف نے اسلام کے نظام عفت و عصمت کا حسین مرقع پردہ کی ضرورت و اہمیت کا قرآن و حدیث سے ثبوت اور پردہ پر کیے جانیوالے اشکالات کا بہترین حل پیش کیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالہ کو مولف کے لیے توشہ آخرت اور عوام الناس کیلیے ذریعہ ہدایت بناءے ۔آمین
Aurat aur Islam (عورت اور اسلام)
عصر حاضر میں بعض تجدد پسند اصحاب نے اسلام میں عورت کے درجے کے بارے میں نہ صرف بعض غلط دعوے کیے ہیں بلکہ اسلامی قانون کی بھی غلط تشریح و توجیہہ کرتے ہوءے اجتہاد کے ذریعہ اس میں بعض تبدیلیاں کرنے کی بھی وکالت کی ہے۔ نیز عورت کی تمدنی حیثیت ؛ عورت اور مرد کے درمیان مساوات؛ عورت کی تعلیم؛ پردہ؛ طلاق اور تعدد ازدواج وغیرہ مساءل کے بارے میں اسلام کے صحیح نقطہ نظر پر نکتہ چینیاں کرتے ہوءے مسلمانوں کے موجودہ عمل کو دقیانوسی بتایا گیا ہے۔علماء کے لیے ایک نیا چیلنج اس غلط ذہنیت کا توڑ کرنا ہے۔ اس کے لیے علماء نءے انداز میں اسلامی احکام پر عقلی نقطہ نظر سے کتابیں لکھیں اور اسلامی احکام کی خوبیوں اور ان کی حکمتوں کو وضاحت کریں جس کے باعث اس قسم کے رکیک شبہات و اعتراضات کا قلع قمع ہو سکے۔اسی ضرورت کے پیش نظر مولف رسالہ نے عورتوں کی معاشی و تمدنی سرگرمیوں؛ طلاق؛ تعدد ازدواج اور آزادانہ سیر و سیاحت پر بحث کی ہے۔ امید ہے کہ یہ شبہات کے ازالہ میں معاون ثابت ہوگی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)